Loading...
error_text
دفتر حضرت آية اللہ العظمي صانعي کي ويب سائٹ :: عمومي لائيبريري
فونٹ سائز
۱  ۲  ۳ 
دوبارہ اپلوڈ   
دفتر حضرت آية اللہ العظمي صانعي کي ويب سائٹ :: دیت کے دیگر مسائل

دیت کے دیگر مسائل سوال 803. میت کے اعضاءکاٹنے پر جب دیت ثابت ہو جائے تو اس کی ادائیگی کس کے ذمہ ہے ڈاکٹر کے یا مریض کی؟
جواب: ڈاکٹر کے اوپر واجب ہے جوقطع کرنے کے عمل کوانجام دیا ہے لیکن اگر کوئی دوسرا اس کے قرض کو ادا کردے اوردیت کو اس کی جانب سے ادا کردے تو وہ بری الذمہ ہوگا جیسا کہ خود میت نے دیت معاف کرنے کے بارے میں وصیت کی ہوتو دیت ساقط ہی.

سوال 804. کیا دیت وہی خسارہ ہے یا زخمی کرنے والے کو دیت کے علاوہ زخمی ہونے والے کے تمام نقصان اورعلاج کے خرچ کو بھی ادا کرنا چاہئے؟ جہاں پردیت کی مقدار خسارہ سے زیادہ، کمتر یا مساوی ہو تو وہاں کیا حکم ہی؟
جواب: دیت اورزخمی کا جو مالی خسارہ ہوا ہے اسے ادا کرنا چاہئے اور ظاہراً اس بیکاری کی نسبت بھی زخمی کرنے والا اس کی اجرت المثل کاضامن ہے لیکن تعیین شدہ دیت سے زیادہ مجروحیت کی
نسبت مقروض نہیں ہے اورمجروحیت کی وجہ سے دیت کے کم وزائد اور مساوی ہونے میں کوئی فرق نہیں ہی.

سوال 805. بعض قانو ن دانوں کے نظریہ کے مطابق دیت کی ماہیت میں زیادہ تر خسارہ کی تلافی کا پہلو جتنا پایا جاتا ہے اس سے کم سزا کا پہلو ہی، حضرت عالی کا نظریہ کیا ہے؟ کیا دیت خسار ہ ہے یا سزا؟
جواب: عمدی قتل کے باب میں بھی دیت کہ جہاں قصاص نہیں ہی، مثلاً باپ نے اپنے بیٹے کو قتل کردیا ہو تو دیت سزا کے دائرہ میں نہیں آتی ہے اورقاتل فقط تعزیر کیا جاتا ہے اوراس کو کفارہ دینا چاہئے جیسا کہ قتل شبہ عمد یا قتل خطا کی صورت میں کہ جس میں دیت خسارہ شمار ہوتی ہی.
سوال 806. جب بھی (عمداً) قتل کرنے یا زخمی کرنے یا قتل سے کم یا زیادہ میں متھم نابالغ سے وضاحت طلب کی جائے تو وہ بلوغ کے بعد اقرار اوراعتراف کرلے اوراس کے اقرار کے ساتھ جرم ثابت ہوجائے تو کیا دیت، عاقلہ کے ذمہ ہوگی؟یا اس کے اقرار کی وجہ سے سے خود اس کے اپنے ذمہ ہوگی؟اس سلسلے میں اگر متھم کی تعقیب بلوغ سے پہلے اوراقرار بلوغ کے بعد ہو یا تعقیب، بلوغ کے بعد اور اقرار بلوغ سے پہلے ہو یا بلوغ کے بعد قتل کرنے یازخمی کرنے کااقرار کرے اورقبل از بلوغ تعقیب نہ کی گئی ہوتو اس میں فرق ہے یا نہیں؟اسی طرح ممیز اورغیر ممیز کے درمیان فرق ہے یا نہیں؟
جواب: ادلہ قصاص کے عموم اوراطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ایسا ممیز بچہ کہ جو اچھے برے کی تمیز رکھتا ہے اورجانتا ہے کہ برے اعمال کی سزا ملتی ہے وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے البتہ غیر ممیز کہ جو پاگل کی مانند ہے اس کے عاقلہ اوررشتہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی حفاظت کریں اس کے اعمال کی مالی ذمہ داری عاقلہ کے اوپر ہے اورحدیث عمدالصبیان خطاءتحملہ العاقلہاسی قسم کے مورد سے تعلق رکھتی ہے اورشریعت کے قواعد وذوق کے مطابق ہے چونکہ عاقلہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے جرائم ضرب شتم سے روکیں لہذا انھوں نے اسے نہیں روکا جس کی وجہ سے وہ دوسروں کونقصان پہنچانے اورانھیں مارنے کا سبب بنا ہے پس مالی لحاظ سے قاعدہ عقلائیہ سے یہی اخذ ہوتا ہے کہ دیت، عاقلہ کے ذمہ ہے لیکن سزا کے حوالے سے ہم انھیں (عاقلہ) سزا نہیں دے سکتے چونکہ تربیت اطفال کے ذمہ دار افراد کو سزا دینا مانند قتل وقطع، تربیت کے لئے وجوب کا مستلزم ہے کہ جوناقابل عمل ہونے کے قطع نظر، شارع نے بھی اسے جعل نہیں کیا تاکہ ایسی جزا ان کونہ دی جائے فقط اس کی مالی جزا پر اکتفا کیا گیا ہے لہذا قتل وجرم کے ثبوت میں بینہ اورقرائن کے ذریعے یا اقرار کے ذریعے کوئی فرق نہیں ہے جیسا کہ قبل از بلوغ کی نیت اقرار پرتعقیب اورغیرتعقیب اوردوسری صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے اوراس کا سبب جو کچھ گذر چکا ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہی.
بہرحال بچہ نے تمیز اورسمجھ نہ ہونے کی وجہ سے جوغلط کام کیا ہے اسے روکا جانا چاہئے تھا لیکن روکا نہیں گیا وہ خطا کی حدتک ذمہ دار ہے اورجملہ عمدالصبیان خطاءتحملہالعاقلہیا غیر ممیز کے اختصاص کے فرض کے مطابق عقلائی طور پرمعتبر ہے اوراس میں کسی قسم کا تعبد اورحکم کہ جس کاراز ہمیں معلوم نہ ہو موجود نہیں ہے اوریہ خود اختصاص پر شاہد ہے چونکہ یہی مطلب عرفی تفاہم کا سبب ہے اورعرف اس قسم کے موارد میں اطلاق کو قبول نہیں کرتا گویا وہ اپنے عقلائی اعتبار کو انصراف کا موجب جانتا ہی.
اور یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ اگر ہم حسب مشہور قائل ہو جائیں کہ عمد الصبیان، بطور مطلق خواہ ممیز ہی کیوں نہ ہو حکم خطا رکھتا ہے اوراس کی دیت عاقلہ پر ہے تو بھی سوال میں مذکور صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے چونکہ تعبدی مسئلہ اورعمد صبی کوخطا قرار دیا گیا ہے اوراس کی دیت عاقلہ پر ہے بڑوں کی خطا میں دیت خطا خود ان پر ہوتی ہے اس لحاظ سے جو فرق ہے وہ اقرار کی خاطر ہے چونکہ اقرار کرنے والے قاتل کا اقرار دوسروں کے ضرر میں ہوتا ہے جو سنا نہیں جاتا اس کے علاوہ بہت سے روایات بھی عدم سماع پر دلالت کرتی ہیں لیکن محل بحث میں عمد کا اقرار ہے کہ جو عمد پر بینہ کی مانند ہے کہ حسب عموم، عاقلہ پر دلیل ہے یہ توغیر ممیز کی بات تھی لیکن جو ممیز ہے اوراچھے وبرے کی پہچان رکھتا جیسا کہ بحث کے اوائل میں گذر چکا ہے اس کاقتل کے ارادے اورتصمیم کے سلسلے میں عمد کے ساتھ بظاہر کوئی فرق نہیں رکھتا یہ اطلاقات وعمومات قصاص ہیں لیکن جووجہ، اس کو غیر ممیز سے ملحق کرنے کے لئے ذکر ہوئی ہے ان میں سے ایک وہی حدیث عمد الصبیان کہ جو گذر چکی ہے کہ اس کی سند میں جو ضعف ہے اس کے قطع نظر اس کا ممیز سے انصراف اورغیر ممیز سے اختصاص ہی. دوسری حدیث، رفع قلم ہے کہ جوبعض جہات سے مخدوش ہی:
١. قلم، قصاص، افراد پر نہیں ہوتا تاکہ مرفوع ہوسکے بلکہ موضوع پر ہوتا ہے پس قتل قصاص کا موجب بنتا ہے جس طرح بول نجاست کا موجب بنتا ہیکما انہ ناقض للوضوءاوان اتلاف المال سبب للضمان وغیر ذلک مما یکون وضعاً علی الموضوع لاعلی المکلف.
اگلا عنوانپچھلا عنوان




تمام حقوق بحق دفتر حضرت آية اللہ العظمي? صانعي محفوظ ہيں.
ماخذ: http://saanei.org